اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ ہم خطے میں انسداد دہشتگردی پر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور حالیہ واقعات سے ہمارے عزم کمزور نہیں ہوں گے بلکہ ہم اپنی پالیسی کے تحت دہشتگردوں کے خلاف جنگ کو جاری رکھیں گے.
'سید عباس عراقچی' نے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکی سینیٹ کی حالیہ پابندیوں کے بل کو ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس آئندہ ماہ منعقد ہوگا.
انہوں نے بتایا کہ تمام تفصیلات اور رپورٹس کو جوہری معاہدے کی نگرانی کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے.
انہوں نے کہا کہ امریکی سینیٹ کے حالیہ ایران مخالف اقدامات ایٹمی معاہدے کی روح کے منافی اور اس کے کامیاب نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہے.
عراقچی نے تہران میں گزشتہ دنوں میں تہران کے دہشتگردانہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسی کاروائیوں ہرگز ایرانی عوام کے پختہ ارادے میں کوئی خلل اندازی نہیں کر سکے گی تو ہم دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے وہی اپنی ماضی پالیسیوں کا سلسلہ جاری کریں گے.
انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا کے سب ممالک یہ جانتے ہیں کہ ہمارے خطے میں دہشتگردی اور دہشتگردی گروپوں کی پیداوار کا مرکز کہاں ہے اور سب جانتے ہیں کہ ایران،دہشتگردی سے کیسے سنجیدہ لڑ رہا ہے اور اس راستے میں اپنے سب کچھ کو فدا کر دے رہا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی اور ایشیائی ممالک سمیت دنیا کے تقریبا تمام ممالک مختلف طریقوں کے ساتھ تہران میں ہونے والے دہشتگردی حملوں کو مذمت کرتے ہوئے اور ایرانی عوام اور قوم کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا.
انہوں نے بتایا کہ اس دہشتگردی واقعات کے سامنے دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہوں اور حکاموں کے رد العمل ،یہ واضح کرتا ہے کہ کونسا ملک دہشتگردی سازشوں کا شکار ہے اور کونسا ملک دہشتگردوں کے حامی ہے.
انہوں نے دہشتگردی سے ایران کی حمایت کے حوالے سے امریکی حکاموں کے حالیہ بے بنیاد بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایسے بیانات بہت شرمناک ہے کہ امریکی حکومت کی غلط پالیسی اور الجھن کی عکاسی کرتا ہے جو یہ خطی مسائل کے بارے میں امریکی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے.
عراقچی نے دہشتگردی کی حمایت میں ایران کی مذمت کرنے کے حوالے سے امریکی کانگریس کے موقف کو ایک بڑا مضحکہ خیزاور شرمناک موقف قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے امریکی کا رویہ نادرست ہے اور ہم اس پر یقین ہے کہ دنیا اس حوالے سے صحیح فیصلہ اپنائے گا.
انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری معاہدے کے مشترکہ کیمشن جولائی کو منعقد کیا جائے گا انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ امریکی سینٹ کے حالیہ بل، عالمی جوہری معاہدے کے خلاف اور نیک نیتی کے اصل کی مخالف ہے.
انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام رپورٹوں کو جوہری معاہدے کی نگرانی کرنے والے ادارے کو رپورٹ کریں گے.
نائب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی سینٹ کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیوں کے منصوبہ کی منظوری اور اس کی حتمی شکل دینے کی صورت میں ایران بھی اسی سلسلے میں اس منصوبے کا جائزہ لے گا.
انہوں نے کہا کہ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے ایران کے خلاف پابندیاں کے جامع منصوبے کی منظوری کی ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی جوہری معاہدے کے آرٹیکل26 اور 29 کے مطابق، امریکیوں کو جوہری معاہدے کو نیک نیتی اور ایک تعمیری فضا میں نفاذ کرنا چاہیے اور اس حوالے سے جوہری معاہدے کے کامیاب نفاذ کی راہ میں رکاوٹوں سے دوری کرنا چاہیے.
انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں گزشتہ ڈیرھ سال کے دوران امریکہ، جوہری معاہدے کے مطابق، اپنے تمام وعدوں کی خلاف روزی کی ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲